اسلامی ہجری کیلنڈر کیا ہے؟
ہجری کیلنڈر — جسے اسلامی قمری کیلنڈر بھی کہتے ہیں — وہ سرکاری نظام ہے جو دنیا بھر کے مسلمان عبادات اور دینی مواقع کی تاریخیں طے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عیسوی کیلنڈر کے برعکس یہ سورج کی بجائے چاند کی گردش پر مبنی ہے۔
ہجری کیلنڈر کا آغاز
یہ کیلنڈر 622ء سے شروع ہوتا ہے — وہ سال جب نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ سنہ 638ء میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے باضابطہ اسلامی کیلنڈر قائم کیا جس کا آغاز ہجرت کے سال سے ہوا۔ صحابہ کرام نے محرم کو پہلا مہینہ قرار دیا۔
ہجری کیلنڈر کے بارہ مہینے
- محرم – پہلا مہینہ، حرمت والا مہینہ، عاشورہ اس میں۔
- صفر – دوسرا مہینہ، کوئی خاص عبادت نہیں۔
- ربیع الاول – نبی ﷺ کی ولادت اور وفات کا مہینہ۔
- ربیع الثانی – چوتھا مہینہ۔
- جمادی الاول – پانچواں مہینہ۔
- جمادی الثانی – چھٹا مہینہ۔
- رجب – حرمت والا مہینہ، معراج النبی ﷺ اس میں۔
- شعبان – رمضان سے پہلے کا مہینہ۔
- رمضان – سب سے افضل مہینہ، روزوں اور قرآن کا مہینہ۔
- شوال – عید الفطر اس سے شروع ہوتی ہے۔
- ذوالقعدہ – حرمت والا مہینہ، حج سے پہلے۔
- ذوالحجہ – حج اور عید الاضحی کا مہینہ۔
نئے مہینے کا تعین
روایتی طور پر ہر نئے مہینے کا آغاز 29ویں تاریخ کے غروب کے بعد ہلال دیکھنے سے ہوتا ہے۔ اگر چاند نظر آئے تو پرانا مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے، ورنہ 30 دن۔ جدید دور میں بہت سے ممالک فلکیاتی حسابات استعمال کرتے ہیں۔
رمضان ہر سال پہلے کیوں آتا ہے؟
ہجری سال میں 354 یا 355 دن ہوتے ہیں جبکہ عیسوی سال میں 365 یا 366۔ اس 11 دن کے فرق کی وجہ سے اسلامی مواقع ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آتے ہیں اور 33 سال میں پورا چکر مکمل کرتے ہیں۔
ہجری کیلنڈر کی اہمیت
یہ کیلنڈر اسلام کے اوقاتی ارکان طے کرتا ہے: رمضان کے روزے، ذوالحجہ میں حج، عیدین، زکوۃ الفطر۔ اسے اسلامی فقہ میں عدت، رضاعت وغیرہ کے احکام میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔